ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوپی: کاس گنج کے الطاف کے بعدکانپور کے جتیندر کی باری۔پولیس کی مبینہ پٹائی، متأثرہ کی موت، اہل خانہ کی ہنگامہ آرائی 

یوپی: کاس گنج کے الطاف کے بعدکانپور کے جتیندر کی باری۔پولیس کی مبینہ پٹائی، متأثرہ کی موت، اہل خانہ کی ہنگامہ آرائی 

Tue, 16 Nov 2021 20:23:56    S.O. News Service

کانپور،16نومبر (آئی این ایس انڈیا)  یوپی میں ایک بار پھر پولس کے سفاک چہرہ کی بحث شروع ہوگئی ہے۔ گورکھپور میں پولیس کی پٹائی سے تاجر کی موت، اور پولیس حراست میں کاس گنج کے الطاف کی موت کے معاملہ کے بعد اب کانپور پولس پر نوجوان کوپیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کا سنسنی خیز الزام سامنے آیا ہے۔

الزام کے مطابق تین روز قبل نوجوان کو پولیس نے چوری کے الزام میں چوکی بلایا تھا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے چوری کا جھوٹا الزام لگا کر اس کی پٹائی کی، جس میں اس کی موت ہوگئی۔ منگل کی صبح کچھ پولیس والوں نے نوجوان کو اس کے ہی گھر کے قریب پھینک کر وہاں سے چلے گئے۔ یہ دیکھ کر لوگوں میں پولیس کے خلاف ناراضگی پھیل گئی۔

تفصیلات کے مطابق کلیان پور پولس نے دو دن پہلے نوجوان کو دیوالی کے اگلے دن 12 لاکھ کی چوری کے شبہ میں پکڑا تھا، اسے کل صبح رہا کیا گیا تھا جس کے بعد رات کو اس کی موت ہوگئی۔ نوجوان کی پشت پر بری طرح تشدد کے نشانات ہیں۔ اہل خانہ نے پولیس پر قتل کا الزام لگایا ہے۔ لواحقین نے لاش رکھ کر ہنگامہ آرائی کی، اور قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لواحقین کا الزام ہے کہ پولیس نے مقتول کو چوری کے معاملہ میں پوچھ گچھ کے لیے چوکی پر بلایا تھا،اور وہاں متوفی کے ساتھ مار پیٹ کی گئی جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔ ڈی سی پی ویسٹ بی بی جی ٹی ایس مورتی کا کہنا ہے کہ معاملہ کی منصفانہ جانچ کی جائے گی۔ ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ متوفی کے گھر کے متصل رہنے والے ایک کنبہ سے 4 نومبر کو لاکھوں کی چوری ہوئی تھی،جس کے بعد پولیس نے 14 نومبر کو متوفی کے بھائیوں کے مجرمانہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے شک کی بنیاد پر متوفی سے پوچھ گچھ کیلئے چوکی بلایا گیا تھا۔ پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اگلے دن اس کی طبیعت بگڑ گئی اور ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجواکرواقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔جب کہ گھر والوں کا الزام ہے کہ شام کو بے ہوشی کی حالت میں پولیس نے اسے گھر کے قریب پھینک دیا۔ جتیندر کی طبیعت خراب ہونے پر گھر والے انہیں اسپتال لے گئے۔ نوجوان راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ گھر والوں نے جب اس کے جسم پر زخم کے نشانات دیکھے تووہ مشتعل ہوگئے۔

گھر والوں نے بتایا کہ جتیندر ممبئی میں مزدوری کرتا تھا، وہ دیوالی کی چھٹیوں میں گھر آیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ممبئی واپس جاتا، پولیس نے اسے اٹھا لیا۔ الزام ہے کہ جتیندر کو رات کے وقت پنکی روڈ چوکی میں رکھ کر سفاکانہ تشدد کیا ہے، جس کی تاب نہ لاکر جتیندر ہلاک ہوگیا ہے۔


Share: